ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن اور ہائبرڈ ورکنگ پلان تیار
وفاقی حکومت کا توانائی بچت، آن لائن ورکنگ اور محدود اوقات کار کا نیا پلان، باضابطہ اعلان متوقع
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے اور ہائبرڈ ورکنگ پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد توانائی اور فیول وسائل کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
ابتدائی تجاویز کے مطابق سرکاری دفاتر میں ہائبرڈ ورکنگ ماڈل ایک ماہ کے لیے نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت پانچ دن دفاتر ہفتے میں تین دن کام کریں گے جبکہ باقی دو دن آن لائن کام ہوگا۔ سروسز دفاتر کے لیے چار دن دفتر اور دو دن آن لائن کام کی پالیسی تجویز کی گئی ہے۔
آن لائن حاضری کے لیے مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ہر افسر کے لیے کم از کم 65 فیصد حاضری لازمی ہوگی اور ہفتہ وار آڈٹ ریکارڈ تیار کیا جائے گا۔ پرائیویٹ دفاتر کو بھی 50 فیصد آن لائن ورکنگ اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تعلیمی اداروں کے حوالے سے یونیورسٹیز، کالجز اور اسکولز میں ہفتے میں تین دن آن لائن اور تین دن فزیکل کلاسز کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ مزید 15 دن مکمل آن لائن نظام جاری رکھنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
فیول اور توانائی کی بچت کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے، غیر ضروری استعمال پر جرمانے اور ضبطی کی تجاویز دی گئی ہیں، جبکہ دفاتر میں صبح 10:30 سے قبل ایئر کنڈیشنرز کے استعمال پر پابندی ہوگی اور 60 دن کے اندر 50 فیصد توانائی سولر پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں بازاروں اور شاپنگ سینٹرز کو رات 9:30 بجے بند کرنے، شادی تقریبات کو محدود رکھنے اور بجلی و فیول رعایت میں کمی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ٹیکس نظام میں بھی تبدیلیوں پر غور جاری ہے، جن میں انٹرنیٹ ٹیکس میں کمی اور پراپرٹی و گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ شامل ہے۔
حکام کے مطابق ان تمام اقدامات کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹیم تشکیل دی جائے گی تاکہ توانائی بچت اور پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔